قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الحَجِّ (بَابُ مَا لاَ يَلْبَسُ المُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

1543. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنْ الثِّيَابِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَلْبَسُ الْقُمُصَ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْبَرَانِسَ وَلَا الْخِفَافَ إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنْ الْكَعْبَيْنِ وَلَا تَلْبَسُوا مِنْ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ أَوْ وَرْسٌ قال ابو عبد اللہ یغسل المحرم راسه ولا يترجل ولا يحك جسده و يلقى القمل من راسه و جسده فى الارض

صحیح بخاری:

کتاب: حج کے مسائل کا بیان

تمہید کتاب (باب: محرم کو کونسے کپڑے پہننا درست نہیں)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1543.

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ  سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ !محرم کون سے کپڑے پہنے؟رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:  ’’محرم قمیص، پگڑی، شلوار، ٹوپی، اور موزے نہ پہنے۔ ہاں اگر جوتا نہ ملے تو موزے پہن لے لیکن انھیں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے اور ایسا کپڑا بھی نہ پہنو جسے زعفران یا ورس لگی ہوئی ہو۔‘‘