قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ (بَابٌ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

3366.   حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الأَرْضِ أَوَّلَ؟ قَالَ: «المَسْجِدُ الحَرَامُ» قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ «المَسْجِدُ الأَقْصَى» قُلْتُ: كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: «أَرْبَعُونَ سَنَةً، ثُمَّ أَيْنَمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلاَةُ بَعْدُ فَصَلِّهْ، فَإِنَّ الفَضْلَ فِيهِ»

صحیح بخاری:

کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب:

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

3366.   حضرت ابو ذر  ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ!روئے زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ آپ نے فرمایا: ’’مسجد حرام۔‘‘ میں نے عرض کیا: پھر کونسی؟ آپ نے فرمایا: ’’مسجداقصیٰ۔‘‘ میں نے دریافت کیا: ان دونوں میں کتنی مدت کا فاصلہ تھا؟ آپ نے فرمایا: ’’چالیس سال کا، مگر جہاں بھی تمھیں نماز کا وقت آجائے وہیں نماز پڑھ لو کیونکہ فضیلت اسی میں ہے۔‘‘