قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: صفات و شمائل

‌صحيح البخاري: كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ (بَابُ قَوْلِهِ {لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا})

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

4837.   حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ سَمِعَ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ مِنْ اللَّيْلِ حَتَّى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِمَ تَصْنَعُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا فَلَمَّا كَثُرَ لَحْمُهُ صَلَّى جَالِسًا فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ

صحیح بخاری:

کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: آیت (( لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر )) کی تفسیریعنی ”تاکہ اللہ آپ کی سب اگلی پچھلی خطائیں معاف کر دے اور آپ پر احسانات کی تکمیل کر دے اور آپ کو سیدھے راستہ پر لے چلے“

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4837.   حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ رات کی نماز میں اتنا طویل قیام کرتے کہ آپ کے پاؤں مبارک پھٹ جاتے۔ حضرت عائشہ‬ ؓ ن‬ے (ایک مرتبہ) عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اتنی زیادہ مشقت کیوں اٹھاتے ہیں، اللہ تعالٰی نے تو آپ کی اگلی پچھلی تمام لغزشیں معاف کر دی ہیں؟ آپ نے جواب دیا: ’’تو کیا پھر میں اللہ تعالٰی کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں؟‘‘ آخری عمر میں جب آپ کا جسم فربہ ہو گیا تو آپ یہ نماز بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔ جب رکوع کا وقت آتا تو کھڑے ہو کر کچھ قراءت فرماتے، پھر رکوع کرتے۔