قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: صفات و شمائل

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَدَبِ (بَابُ مَنْ لَمْ يُوَاجِهِ النَّاسَ بِالعِتَابِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

6102.   حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ هُوَ ابْنُ أَبِي عُتْبَةَ مَوْلَى أَنَسٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ العَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا، فَإِذَا رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ»

صحیح بخاری:

کتاب: اخلاق کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: غصہ میں جن پر عتاب ہے ان کو مخاطب نہ کرنا

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

6102.   حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ پردہ نشین کنواری لڑکیوں سے کہیں زیادہ حیا دار تھے۔ جب آپ کوئی ایسی چیز دیکھتے جو آپ کو ناگوار ہوتی تو ہم اسے آپ کے چہرہ انور سے معلوم کر لیتے تھے۔