قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَدَبِ (بَابُ الحَيَاءِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

6117.   حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي السَّوَّارِ العَدَوِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الحَيَاءُ لاَ يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ» فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ: مَكْتُوبٌ فِي الحِكْمَةِ: إِنَّ مِنَ الحَيَاءِ وَقَارًا، وَإِنَّ مِنَ الحَيَاءِ سَكِينَةً فَقَالَ لَهُ عِمْرَانُ: «أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُحَدِّثُنِي عَنْ صَحِيفَتِكَ»

صحیح بخاری:

کتاب: اخلاق کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: حیا اور شرم کا بیان

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

6117.   حضرت عمر بن حصین ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”حیا سے ہمیشہ بھلائی پیدا ہوتی ہے۔“ یہ سن کر بشیر بن کعب نے کہا: حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حیا سے وقار پیدا ہوتا ہے اور حیا سے سکون قلب میسر آتا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے کہا: میں تجھے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کرتا ہوں اور مجھے اپنی (دو ورقی) کتاب کی باتیں سناتا ہے۔