قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَدَبِ (بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ: فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب: فِيهِ الزُّبَيْرُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ

6184.   حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفَدِّي أَحَدًا غَيْرَ سَعْدٍ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «ارْمِ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» أَظُنُّهُ يَوْمَ أُحُدٍ

صحیح بخاری:

کتاب: اخلاق کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: کسی شخص کا کہنا کہ ” میرے باپ اور ماں تم پر قربان ہوں

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

ترجمۃ الباب:

اس میں زبیر نے آنحضرت ﷺ سے روایت کی ہے

6184.   حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول للہ ﷺ کو کسی کے لیے اپنے آپ کو قربان کرنے کا لفظ کہتے نہیں سنا البتہ سعد بن ابی وقاص کے لیے آپ نے فرمایا: ”تیر مارو، میرے باپ آپ پر قربان ہوں۔“ میرا خیال ہے آپ نے یہ ٖغزوہ احد کے دن فرمایا تھا۔