قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الدِّيَاتِ (بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ أَحْيَاهَا} [المائدة: 32])

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:مَنْ حَرَّمَ قَتْلَهَا إِلَّا بِحَقٍّ {فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا} [المائدة: 32]

6871.   حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْكَبَائِرُ ح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ابْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَوْلُ الزُّورِ أَوْ قَالَ وَشَهَادَةُ الزُّورِ

صحیح بخاری:

کتاب: دیتوں کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب : سورۃ مائدہ میں فرمان کہ جس نے مرتے کو بچالیا اس نے گویا سب لوگوں کی جان بچالی

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

ترجمۃ الباب:

‏ابن عباس ؓنے کہا کہ من احیاھا کا معنی یہ ہے کہ جس نے ناحق خون کرنا حرام رکھا گویا اس نے اس عمل سے تمام لوگوں کو زندہ رکھا۔اس یہ نا حق خون ایک کرے یا تمام کریں گناہ میں برابر ہیں اور جس نے نا حق خون سے پرہیز کیا تو گویا سب لوگوں کی جان بچا لی۔

6871.   حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”سب سے بڑے گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، کسی کی ناحق جان لینا والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا۔“ یا فرمایا: ”جھوٹی گواہی دینا ہیں۔“