قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْغُسْلِ وَالتَّيَمُّمِ (بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ الْمَذْيِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

‎-1 .   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنَّ مُخَارِقًا أَخْبَرَهُمْ، عَنْ طَارِقٍ أَنْ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يُصَلِّ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «أَصَبْتَ» فَأَجْنَبَ رَجُلٌ آخَرَ فَتَيَمَّمَ وَصَلَّى، فَأَتَاهُ فَقَالَ نَحْوَ مَا قَالَ لِلْآخَرِ يَعْنِي «أَصَبْتَ»

سنن نسائی:

کتاب: غسل اور تیمم سے متعلق احکام و مسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: مذی آنے سے وضو کرنا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ حافظ محمّد أمين (دار السّلام)

‎-1.   حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ ایک آدمی جنبی ہوگیا۔ (اسے پانی نہ ملا) تو اس نے نماز نہ پڑھی، پھر وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ’’تونے ٹھیک کیا۔‘‘ ایک اور آدمی جنبی ہوا۔ (اسے پانی نہ ملا) تو اس نے تیمم کرکے نماز پڑھ لی اور نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے اسے بھی وہی الفاظ کہے جو دوسرے سے کہے تھے، یعنی ”تونے ٹھیک کیا۔“