قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ السَّهْوِ (بَابُ مَا يَفْعَلُ مَنْ قَامَ مِنْ اثْنَتَيْنِ نَاسِيًا وَلَمْ يَتَشَهَّدْ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1222.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ قَالَ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ كَبَّرَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ ثُمَّ سَلَّمَ

سنن نسائی:

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جوآدمی بھول کردورکعتوں سےکھٹراہوجائےاورتشہدنہ بیٹھے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1222.   حضرت عبداللہ ابن بحینہ ؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں، پھر اٹھ کھڑے ہوئے، بیٹھے نہیں۔ لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ جب آپ نے نماز مکمل فرما لی اور ہم آپ کے سلام کے انتظار میں تھے تو آپ نے اللہ اکبر کہہ کر دو سجدے کیے جب کہ آپ سلام سے قبل بیٹھے تھے۔ پھر آپ نے سلام پھیرا۔