قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ الْحَلْقِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1863.   أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَبِي بُرْدَةَ، قَالَا: لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ تَصِيحُ، قَالَا: فَأَفَاقَ، فَقَالَ: أَلَمْ أُخْبِرْكِ أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَا: وَكَانَ يُحَدِّثُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ حَلَقَ، وَخَرَقَ، وَسَلَقَ»

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: (مصیبت میں )بال منڈوانا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1863.   حضرات عبدالرحمٰن بن یزید اور ابوبردہ فرماتے ہیں کہ: جب حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کی تکلیف (مرض الموت میں) بڑھ گئی تو ان کی بیوی روتی چلاتی ہوئی آئی، وہ ہوش میں آئے تو فرمانے لگے: کیا میں تجھے بتا نہ دوں کہ میں ہر شخص سے بری ہوں جس سے رسول اللہ ﷺ لاتعلق ہیں؟ حضرت ابو موسیٰ اپنی زوجۂ محترمہ کو یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس شخص سے لاتعلق ہوں جس نے (مصیبت کے موقع پر بطور سوگ) بال منڈوائے، کپڑے پھاڑے یا چیخ و پکار کی۔“