قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ غَسْلِ الْمَيِّتِ بِالْمَاءِ وَالسِّدْرِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1881.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَتْ ابْنَتُهُ فَقَالَ اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَعْطَانَا حَقْوَهُ وَقَالَ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: میت کو پانی اور بیری کےپتوں سے غسل دینا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1881.   حضرت ام عطیہ انصاریہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ اپنی صاحبزادی کی وفات کے وقت ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا اس سے زیادہ مرتبہ، اگر ضرورت ہوتو، پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور آخری مرتبہ کا فور ڈال دو یا تھوڑا سا کا فور شامل کر دو اور فارغ ہوکر مجھے اطلاع دینا۔“ چنانچہ ہم نے فارغ ہوکر آپ کو اطلاع دی تو آپ نے ہمیں اپنا تہ بند دیا اور فرمایا: ”اسے اس کے بدن پر لپیٹ دو۔“