قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ غَسْلِ الْمَيِّتِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعَةٍ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1887.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا فَقَالَ اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: میت کوسات سے بھی زیادہ دفعہ غسل دینا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1887.   حضرت ام عطیہ‬ ؓ ف‬رماتی ہیں کہ نبی ﷺ کی ایک بیٹی فوت ہوگئیں۔ آپ نے ہمیں بلا بھیجا اور فرمایا: ”اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا اس سے زائد دفعہ، اگر ضرورت محسوس کرو، پانی اور بیری سے غسل دینا۔ اور آخر دفعہ کافور ڈال دینا یا تھوڑا سا کافور (پانی میں) ملا لینا، پھر جب تم فارغ ہو تو مجھے اطلاع کرنا۔“ جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپ کو اطلاع کی۔ آپ نے ہماری طرف اپنا تہ بند پھینکا اور فرمایا: ”(کفن دینے سے پہلے) اس میں اس کو لپیٹ دینا۔“