قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الصِّيَامِ (بَابُ النِّيَّةِ فِي الصِّيَامِ وَالِاخْتِلَافُ عَلَى طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ فِي خَبَرِ عَائِشَةَ فِيهِ)

حکم : حسن

ترجمۃ الباب:

2322.   أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ فَقُلْتُ لَا قَالَ فَإِنِّي صَائِمٌ ثُمَّ مَرَّ بِي بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَقَدْ أُهْدِيَ إِلَيَّ حَيْسٌ فَخَبَأْتُ لَهُ مِنْهُ وَكَانَ يُحِبُّ الْحَيْسَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَخَبَأْتُ لَكَ مِنْهُ قَالَ أَدْنِيهِ أَمَا إِنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ وَأَنَا صَائِمٌ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا مَثَلُ صَوْمِ الْمُتَطَوِّعِ مَثَلُ الرَّجُلِ يُخْرِجُ مِنْ مَالِهِ الصَّدَقَةَ فَإِنْ شَاءَ أَمْضَاهَا وَإِنْ شَاءَ حَبَسَهَا

سنن نسائی:

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: رووزے کی نیت اور اس بارے میں حضرت عائشہؓ کی حدیث (کے بیان کرنے) میں طلحہ بن یحیٰ بن طلحہ کے شاگردوں کا اختلاف

)
  باب تمہید

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2322.   حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہﷺ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی کھانے کی چیز ہے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”چلو میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔“ پھر کسی اور دن میرے پاس سے گزرے۔ اتفاقاً اس وقت مجھے حیس کا تحفہ آیا ہوا تھا اور میں نے آپ کے لیے کچھ رکھ چھوڑا تھا۔ آپ حیس کو بہت پسند فرماتے تھے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس حیس کا تحفہ آیا ہے اور میں نے آپ کے لیے کچھ محفوظ رکھا ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”لاؤ پیش کرو۔ میں نے تو آج روزے کی نیت کر رکھی تھی۔“ پھر آپ نے وہ حیس کھایا اور فرمایا: ”نفل روزے کی مثال ایسی ہے جیسے آدمی اپنے مال سے صدقہ نکالے، پھر چاہے اسے خرچ کر دے، چاہے اپنے پاس رکھ لے۔“