قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الصِّيَامِ (بَابُ النِّيَّةِ فِي الصِّيَامِ وَالِاخْتِلَافُ عَلَى طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ فِي خَبَرِ عَائِشَةَ فِيهِ)

حکم : لم أجده في الصحيح و لا في الضعيف

ترجمۃ الباب:

2329.   أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَأُمِّ كُلْثُومٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَ: «هَلْ عِنْدَكُمْ طَعَامٌ» نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَقَدْ رَوَاهُ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ

سنن نسائی:

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: رووزے کی نیت اور اس بارے میں حضرت عائشہؓ کی حدیث (کے بیان کرنے) میں طلحہ بن یحیٰ بن طلحہ کے شاگردوں کا اختلاف

)
  باب تمہید

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2329.   حضرت مجاہد اور ام کلثوم سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ حضرت عائشہؓ کے ہاں تشریف لے گئے اور فرمایا: ”تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟“ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) ؓ بیان کرتے ہیں کہ سماک بن حرب نے اس روایت کو عن رجل عنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ کے طریق سے بیان کیا ہے۔ (یعنی آدمی کو مبہم رکھا ہے۔ اگلی حدیث سماک ہی کی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے۔