قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابُ مَسْأَلَةِ الرَّجُلِ فِي أَمْرٍ لَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2601.   أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا حَكِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى

سنن نسائی:

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: ایسی چیز کا سوال کرنا جس کے بغیر چارہ نہ ہو

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2601.   حضرت حکیم بن حزام ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے (ایک دفعہ) رسول اللہﷺ سے مانگا، آپ نے دے دیا۔ میں نے پھر مانگا، آپ نے پھر دے دیا، میں نے پھر مانگا، آپ نے پھر دیا مگر ساتھ ہی فرمایا: ”اے حکیم! بلا شبہ یہ مال سبز وشیریں ہے۔ جو شخص اسے نفس کی پاکیزگی کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت ہوگی۔ اور جو اسے لالچ اور طمع کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت نہ ہوگی۔ اور وہ اس شخص کی طرح ہوگا جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا۔ اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“