قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابُ إِحْلَالِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا وَالنِّكَاحِ الَّذِي يُحِلُّهَا بِهِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3412.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ فَقَالَ لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا كَمَا ذَاقَ الْأَوَّلُ

سنن نسائی:

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: تین طلاق والی عورت کسی نکاح کے ساتھ (پہلے خاوند کے لیے) حلال ہوسکتی ہے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3412.   حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں‘ پھر اس عورت نے کسی اور آدمی سے نکاح کرلیا لیکن اس نے اسے جماع کرنے سے پہلے طلاق دے دی۔ رسول اللہﷺ سے پوچھا گیا: کیا وہ عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں‘ حتیٰ کہ یہ دوسرا خاوند اس سے (جماع کرکے) لطف اندوز ہو جیسا کہ پہلا خاوند لطف اندوز ہوتا رہا۔“