قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْوَصَايَا (بَابُ ذِكْرِ الِاخْتِلَافِ عَلَى سُفْيَانَ)

حکم : حسن

ترجمۃ الباب:

3664.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ قُلْتُ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ سَقْيُ الْمَاءِ

سنن نسائی:

کتاب: وصیت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: سفیان پر (واقع ہونے والے) اختلاف کا ذکر

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3664.   حضرت سعد بن عبادہ ؓ سے راویت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری والدہ محترمہ فوت ہوگئی ہیں۔ کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کرسکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے عرض کیا: کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”پانی پلانا۔“