قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْقَسَامَةِ (بَابُ ذِكْرِ الِاخْتِلَافِ عَلَى عَطَاءٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ)

حکم : صحیح الإسناد

ترجمۃ الباب:

4768.   أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَاسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا فَقَاتَلَ أَجِيرِي رَجُلًا، فَعَضَّ الْآخَرُ، فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَأَهْدَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

سنن نسائی:

کتاب: قسامت ‘قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: اس روایت میں (راویوں کا) عطاء پر اختلاف

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4768.   حضرت یعلی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: میں غزوۂ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ کو گیا تو میں نے ایک شخص نوکر رکھ لیا۔ پھر میرا نوکر کسی آدمی سے لڑ پڑا۔ اس آدمی نے اسے کاٹ کھایا حتیٰ کہ اس کا سامنے والا دانت گر گیا۔ وہ شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی۔ نبی اکرم ﷺ نے اسے رائیگاں قرار دیا۔ (اس کا کوئی معاوضہ نہ دلوایا)۔