قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْقَسَامَةِ (بَابُ ذِكْرِحَدِيثِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِي الْعُقُولِ وَاخْتِلَافُ النَّاقِلِينَ لَهُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4859.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرَى يَحُكُّ بِهَا رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تَنْظُرُنِي لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ»

سنن نسائی:

کتاب: قسامت ‘قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: دیت کے مسائل کے بارے میں حضرت عمرو بن حزم کی حدیث اور راویوں کا اختلاف

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4859.   حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے خبر دی کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے دروازے کے سوراخ سے جھانکنے لگا۔ اور رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک نوکدار لکڑی تھی جس سے آپ اپنے سر کو کھجلی فرما رہے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اس کو دیکھا تو فرمایا: ”اگر مجھے علم ہوتا کہ تو مجھے دیکھ رہا ہے تو میں یہ لکڑی تیری آنکھ میں مار دیتا۔ اجازت لینے کا حکم تو اسی لیے دیا گیا ہے کہ نظر نہ پڑ سکے۔“