قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ قَطْعِ السَّارِقِ (بَابُ مَا يَكُونُ حِرْزًا وَمَا لَا يَكُونُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4884.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ قَالَ حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا وَذَكَرَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّهُ سُرِقَتْ خَمِيصَتُهُ مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ وَهُوَ نَائِمٌ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ اللِّصَّ فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ فَقَالَ صَفْوَانُ أَتَقْطَعُهُ قَالَ فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ تَرَكْتَهُ

سنن نسائی:

کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: کون سی چیز محفوظ ہوتی ہے اور کون سی غیر محفوظ؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4884.   حضرت صفوان بن امیہ ؓ سے روایت ہے کہ میرے سر کے نیچے سے ایک دھاری دار چادر چرا لی گئی جبکہ وہ نبی اکرم ﷺ کی مسجد میں سوئے ہوئے تھے۔ وہ چور کو پکڑ کر نبی اکرم ﷺ کے پاس لے آئے۔ آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ صفوان نے کہا: آپ (اتنی چیز میں) اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے؟ (میں اسے معاف کرتا ہوں)۔ آپ نے فرمایا: ”تو نے اسے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ چھوڑ دیا؟“