قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ قَطْعِ السَّارِقِ (بَابُ مَا يَكُونُ حِرْزًا وَمَا لَا يَكُونُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4890.   أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْخَلِيلِ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَسْتَعِيرُ الْحُلِيَّ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَعَارَتْ مِنْ ذَلِكَ حُلِيًّا فَجَمَعَتْهُ ثُمَّ أَمْسَكَتْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتَتُبْ هَذِهِ الْمَرْأَةُ وَتُؤَدِّي مَا عِنْدَهَا مِرَارًا فَلَمْ تَفْعَلْ فَأَمَرَ بِهَا فَقُطِعَتْ

سنن نسائی:

کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: کون سی چیز محفوظ ہوتی ہے اور کون سی غیر محفوظ؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4890.   حضرت نافع ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں استعمال کے لیے زیورات مانگ لیا کرتی تھی۔ اس طرح اس نے کافی زیورات اکٹھے کرلیے۔ پھر وہ اپنے پاس رکھ لیے (اور واپس کرنے سے مکر گئی) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس عورت کو چاہیے کہ وہ توبہ کرے اور جو کچھ اس نے لیا ہے واپس کرے۔“ آپ نے کئی دفعہ فرمایا مگر وہ نہ مانی۔ آخر اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔