قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ السِّيَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي وَصِيَّتِهِ ﷺ فِي الْقِتَالِ​)

حکم : صحیح (الألباني)

1618. حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُغِيرُ إِلَّا عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ فَاسْتَمَعَ ذَاتَ يَوْمٍ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ عَلَى الْفِطْرَةِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ خَرَجْتَ مِنْ النَّارِ.

جامع ترمذی: كتاب: سیر کے بیان میں (باب: جہادکے سلسلے میں نبی اکرمﷺ کی وصیت کا بیان​)

مترجم: ٢. فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1618.

انس ؓ کہتے ہیں: نبی اکرمﷺ صلاۃ فجرکے وقت ہی حملہ کرتے تھے، اگر آپ اذان سن لیتے تو رک جاتے ورنہ حملہ کردیتے ، ایک دن آپ نے کان لگایا تو ایک آدمی کو کہتے سنا: ’’الله أكبر الله أكبر‘‘، آپ نے فرمایا: ’’فطرت (دین اسلام) پر ہے، جب اس نے (أشهد أن لا إله إلا الله) کہا، تو آپﷺ نے فرمایا:' تو جہنم سے نکل گیا۔