قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الحَجِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ بِأَيِّ جَانِبِ الرَّأْسِ يَبْدَأُ فِي الْحَلْقِ​)

حکم : صحیح (الألباني)

912. حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا رَمَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ نَحَرَ نُسُكَهُ ثُمَّ نَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ ثُمَّ نَاوَلَهُ شِقَّهُ الْأَيْسَرَ فَحَلَقَهُ فَقَالَ اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ.

جامع ترمذی: كتاب: حج کے احکام ومسائل (باب: سرکے بال کس طرف سے منڈانا چاہئے؟​)

مترجم: ٢. فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

912.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺ نے جمرہ کی رمی کر لی تو اپنے ہدی کے اونٹ نحر (ذبح) کیے۔ پھر سر مونڈنے والے کو اپنے سر کا داہنا جانب۱؎ دیا اور اس نے سر مونڈا، تو یہ بال آپ نے ابو طلحہ کو دیے، پھر اپنا بایاں جانب اسے دیا تو اس نے اسے بھی مونڈا تو آپ نے فرمایا: ’’یہ بال لوگوں میں تقسیم کر دو‘‘۲؎۔