قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْبُيُوعِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ عَسْبِ الْفَحْلِ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1273.   حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَأَبُو عَمَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسٍ وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُهُمْ فِي قَبُولِ الْكَرَامَةِ عَلَى ذَلِكَ

جامع ترمذی:

كتاب: خریدوفروخت کے احکام ومسائل 

  (

باب: نرکومادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے کی کراہت کا بیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1273.   عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺنے نرکو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے سے منع فرمایا ۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے۔۲۔ اس باب میں ابوہریرہ، انس اور ابوسعید‬ ؓ س‬ے بھی احادیث آئی ہیں۔۳۔ بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ بعض علماء نے اس کام پر بخشش قبول کرنے کی اجازت دی ہے، جمہورکے نزدیک یہ نہی تحریمی ہے۔