قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ السِّيَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابٌ فِي الْبَيَاتِ وَالْغَارَاتِ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1551.   حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِعَرْصَتِهِمْ ثَلَاثًا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَحَدِيثُ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْغَارَةِ بِاللَّيْلِ وَأَنْ يُبَيِّتُوا وَكَرِهَهُ بَعْضُهُمْ و قَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ لَا بَأْسَ أَنْ يُبَيَّتَ الْعَدُوُّ لَيْلًا وَمَعْنَى قَوْلِهِ وَافَقَ مُحَمَّدٌ الْخَمِيسَ يَعْنِي بِهِ الْجَيْشَ

جامع ترمذی:

كتاب: سیر کے بیان میں 

  (

باب: رات میں دشمن پر چھاپہ مارنے اورحملہ کرنے کا بیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1551.   ابوطلحہ ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی اکرمﷺ کسی قوم پر غالب آتے توان کے میدان میں تین دن تک قیام کرتے۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔۲۔ حمید کی حدیث جو انس ؓ سے آئی ہے۔ حسن صحیح ہے۔۳۔ اہل علم کی ایک جماعت نے رات میں حملہ کرنے اورچھاپہ مارنے کی اجازت دی ہے۔۴۔ بعض اہل علم اس کو مکروہ سمجھتے ہیں۔۵۔ احمد اوراسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ رات میں دشمن پرچھاپہ مارنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔۶۔ ’’وافق محمد الخميس‘‘ میں الخمیس سے مراد لشکرہے۔