قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ السِّيَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي أَخْذِ الْجِزْيَةِ مِنَ الْمَجُوسِ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1587.   حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ بَجَالَةَ أَنَّ عُمَرَ كَانَ لَا يَأْخُذُ الْجِزْيَةَ مِنْ الْمَجُوسِ حَتَّى أَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ وَفِي الْحَدِيثِ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

جامع ترمذی:

كتاب: سیر کے بیان میں 

  (

باب: مجوس سے جزیہ لینے کا بیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1587.   بجالہ بن عبدہ سے روایت ہے کہ عمر ؓ مجوس سے جزیہ نہیں لیتے تھے یہاں تک کہ عبدالرحمن بن عوف ؓ نے ان کو خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ نے مقام ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا، اس حدیث میں اس سے زیادہ تفصیل ہے۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔