قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: صفات وشمائل للنبیﷺ

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْجِهَادِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي السُّيُوفِ وَحِلْيَتِهَا​)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

1690.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صُدْرَانَ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ حُجَيْرٍ عَنْ هُودِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ جَدِّهِ مَزِيدَةَ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى سَيْفِهِ ذَهَبٌ وَفِضَّةٌ قَالَ طَالِبٌ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الْفِضَّةِ فَقَالَ كَانَتْ قَبِيعَةُ السَّيْفِ فِضَّةً قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَجَدُّ هُودٍ اسْمُهُ مَزِيدَةُ الْعَصَرِيُّ

جامع ترمذی:

كتاب: جہاد کے احکام ومسائل 

  (

باب: تلواراوراس کی زینت کا بیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1690.   مزیدہ ؓ کہتے ہیں: فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ مکہ داخل ہوئے اور آپ کی تلوار سونا اورچاندی سے مزین تھی، راوی طالب کہتے ہیں: میں نے ہود بن عبداللہ سے چاندی کے بارے میں پوچھاتوانہوں نے کہا: قبضہ کی گرہ چاندی کی تھی ۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔۲۔ ہود کے داداکا نام مزیدہ عصری ہے۔۳۔ اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔