قسم الحديث (القائل): موقوف اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ اللِّبَاسِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابٌ كَيْفَ كَانَ كِمَامُ الصَّحَابَةِ​)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

1782.   حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ قَال سَمِعْتُ أَبَا كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيَّ يَقُولُ كَانَتْ كِمَامُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُطْحًا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ بَصْرِيٌّ هُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ وَبُطْحٌ يَعْنِي وَاسِعَةً

جامع ترمذی:

كتاب: لباس کے احکام ومسائل 

  (

باب: صحابہ کرام کی آستینیں کیسی تھیں؟​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1782.   ابوکبشہ انماری ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی آستینیں کشادہ تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث منکرہے۔۲۔ عبداللہ بن بسربصرہ کے رہنے والے ہیں، محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، یحییٰ بن سعید وغیرہ نے انہیں ضعیف کہا ہے۔۳۔ بطح چوڑی اور کشادہ چیز کو کہتے ہیں۔