موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی
جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْعِلْمِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الاِسْتِيصَاءِ بِمَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ)
حکم : ضعیف
2650. حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ قَالَ كُنَّا نَأْتِي أَبَا سَعِيدٍ فَيَقُولُ مَرْحَبًا بِوَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ النَّاسَ لَكُمْ تَبَعٌ وَإِنَّ رِجَالًا يَأْتُونَكُمْ مِنْ أَقْطَارِ الْأَرَضِينَ يَتَفَقَّهُونَ فِي الدِّينِ فَإِذَا أَتَوْكُمْ فَاسْتَوْصُوا بِهِمْ خَيْرًا قَالَ أَبُو عِيسَى قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ كَانَ شُعْبَةُ يُضَعِّفُ أَبَا هَارُونَ الْعَبْدِيَّ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ مَا زَالَ ابْنُ عَوْنٍ يَرْوِي عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ حَتَّى مَاتَ وَأَبُو هَارُونَ اسْمُهُ عُمَارَةُ بْنُ جُوَيْنٍ
جامع ترمذی:
كتاب: علم اور فہم دین کے بیان میں
باب: علم (دین)حاصل کرنے والوں کے ساتھ خیر خواہی کرنے کابیان
)مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)
2650. ابوہارون کہتے ہیں کہ ہم ابوسعید خدری ؓ کے پاس (علم دین حاصل کرنے کے لیے ) آتے، تو وہ کہتے: اللہ کے رسول ﷺ کی وصیت کے مطابق تمہیں خوش آمدید، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’لوگ تمہارے پیچھے ہیں۱؎ کچھ لوگ تمہارے پاس زمین کے گوشہ گوشہ سے علم دین حاصل کرنے کے لیے آئیں گے تو جب وہ تمہارے پاس آئیں توتم ان کے ساتھ بھلائی کرنا۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ علی بن عبداللہ بن المدینی نے کہا: یحییٰ بن سعید کہتے تھے: شعبہ ابوہارون عبدی کو ضعیف قرار دیتے تھے۔۲۔ یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: ابن عون جب تک زندہ رہے ہمیشہ ابوہارون عبدی سے روایت کرتے رہے۔۳۔ ابوہارون کا نام عمارہ بن جوین ہے۔