قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الدَّعَوَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابٌ مِنْهُ​ فِی فَضلِ التَّسبِیحِ وَالتَّحمِیدِ وَالتَّکبِیرِ فِی دُبُرِ الصَّلَاتِ وَعِندَ النَّومِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3413.   حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُمِرْنَا أَنْ نُسَبِّحَ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنَحْمَدَهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنُكَبِّرَهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ قَالَ فَرَأَى رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الْمَنَامِ فَقَالَ أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَبِّحُوا فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدُوا اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتُكَبِّرُوا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاجْعَلُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ وَاجْعَلُوا التَّهْلِيلَ مَعَهُنَّ فَغَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَهُ فَقَالَ افْعَلُوا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

جامع ترمذی:

كتاب: مسنون ادعیہ واذکار کے بیان میں 

  (

باب: نمازوں کے بعد اور سوتے وقت تسبیح‘تحمید اور تکبیر کی فضیلت

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

3413.   زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں: ہمیں حکم دیا گیا کہ ہر صلاۃ کے بعد ہم (سلام پھیر کر)۳۳بار سُبْحَانَ اللہِ ، ۳۳بار اَلْحَمْدُ لِلہِ اور ۳۴ بار اَللہُ أَکْبَرُ کہیں، راوی (زید) کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے خواب دیکھا، خواب میں نظر آنے والے شخص (فرشتہ) نے پوچھا: کیا تمہیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ ہر نماز کے بعد ۳۳بار سُبْحَانَ اللہِ ، ۳۳بار اَلْحَمْدُ لِلہِ اور ۳۴ بار اَللہُ أَکْبَرُ کہہ لیا کرو؟ اس نے کہا: ہاں، (توسائل (فرشتے) نے کہا: (۳۳،۳۳ اور ۳۴ کے بجائے ) ۲۵ کر لو، اور (لَا إِلٰهَ إِلَّا اللہ) کو بھی انہیں کے ساتھ شامل کرلو، (اس طرح کل سو ہو جائیں گے) صبح جب ہوئی تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے، اور آپﷺ سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپﷺ نے فرمایا: ’’ایسا ہی کر لو‘‘۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔