قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الصَّلاَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

344.   حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بَكْرٍ الْمَرْوَزِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَخْنَسِيِّ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَإِنَّمَا قِيلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ لِأَنَّهُ مِنْ وَلَدِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَابْنُ عَبَّاسٍ و قَالَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا جَعَلْتَ الْمَغْرِبَ عَنْ يَمِينِكَ وَالْمَشْرِقَ عَنْ يَسَارِكَ فَمَا بَيْنَهُمَا قِبْلَةٌ إِذَا اسْتَقْبَلْتَ الْقِبْلَةَ و قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ هَذَا لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ وَاخْتَارَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ التَّيَاسُرَ لِأَهْلِ مَرْوٍ

جامع ترمذی:

كتاب: نماز کے احکام ومسائل 

  (

باب: مشرق اور مغرب کے درمیان میں جوہے سب قبلہ ہے​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

344.   ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’مشرق (پورب) اور مغرب (پچھم) کے درمیان جو ہے وہ سب قبلہ ہے‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔۲- کئی صحابہ سے مروی ہے کہ مشرق و مغرب کے درمیان جو ہے سب قبلہ ہے۔ ان میں عمر بن خطاب، علی بن ابی طالب، اور ابن عباس ؓ بھی شامل ہیں، ابن عمر ؓ کہتے ہیں: جب آپ مغرب کو دائیں طرف اور مشرق کو بائیں طرف رکھ کر قبلہ رخ کھڑے ہوں گے تو ان دونوں سمتوں کے درمیان جو ہو گا وہ قبلہ ہو گا، ابن مبارک کہتے ہیں: مشرق و مغرب کے درمیان جو ہے سب قبلہ ہے، یہ اہل مشرق۱؎ کے لیے ہے۔ اور عبداللہ بن مبارک نے اہل مرو۲؎ کے لیے بائیں طرف جھکنے کو پسند کیا ہے۔