قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابٌ فِي مَنَاقِبِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ؓ وَلَهُ كُنْيَتَانِ، يُقَالُ أَبُو عَمْرٍو وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ)

حکم : حسن

ترجمۃ الباب:

3701.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ وَاقِعٍ الرَّمْلِيُّ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ جَاءَ عُثْمَانُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَلْفِ دِينَارٍ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ وَاقِعٍ وَكَانَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مِنْ كِتَابِي فِي كُمِّهِ حِينَ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَيَنْثُرُهَا فِي حِجْرِهِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُهَا فِي حِجْرِهِ وَيَقُولُ مَا ضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ

جامع ترمذی:

كتاب: فضائل و مناقب کے بیان میں 

  (

باب: عثمان بن عفانؓ کے مناقب کابیان اور ان کی دو کنیتیں ہیں ابو عمرو اور ابو عبداللہ​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

3701.   عبدالرحمن بن سمرہ ؓ کہتے ہیں :عثمان ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک ہزار دینار لے کر آئے، (حسن بن واقع جو راوی حدیث ہیں کہتے ہیں: دوسری جگہ میری کتاب میں یوں ہے کہ وہ اپنی آستین میں لے کر آئے)، جس وقت انہوں نے جیش عسرہ کو تیار کیا، اور اسے آپﷺ کی گود میں ڈال دیا، میں نبی اکرم ﷺکو اسے اپنی گود میں الٹتے پلٹتے دیکھا اور یہ کہتے سنا کہ ’’آج کے بعد سے عثمان کو کوئی بھی برا عمل نقصان نہیں پہنچائے گا‘‘، ایسا آپﷺ نے دوبار فرمایا۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔