قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَنَاقِبِ أَبِي الْأَعْوَرِ وَاسْمُهُ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍؓ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3757.   حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَ مْرِو بْنِ نُفَيْلٍ أَنَّهُ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى التِّسْعَةِ أَنَّهُمْ فِي الْجَنَّةِ وَلَوْ شَهِدْتُ عَلَى الْعَاشِرِ لَمْ آثَمْ قِيلَ وَكَيْفَ ذَلِكَ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِرَاءَ فَقَالَ اثْبُتْ حِرَاءُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ قِيلَ وَمَنْ هُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَسَعْدٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ قِيلَ فَمَنْ الْعَاشِرُ قَالَ أَنَا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

جامع ترمذی:

كتاب: فضائل و مناقب کے بیان میں 

  (

باب: سعید بن زیدؓ کے مناقب

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

3757.   سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ؓ کہتے ہیں کہ میں نو اشخاص کے سلسلے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ لوگ جنتی ہیں اور اگر میں دسویں کے سلسلے میں گواہی دوں تو بھی گنہگار نہیں ہوں گا، آپ سے کہا گیا: یہ کیسے ہے؟ (ذرا اس کی وضاحت کیجئے) توا نہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حرا پہاڑ پر تھے تو آپﷺ نے فرمایا: ’’ٹھہرا رہ اے حرا! تیرے اوپر ایک نبی، یا صدیق، یا شہید۱؎ کے علاوہ کوئی اور نہیں، عرض کیا گیا: وہ کون لوگ ہیں جنہیں آپﷺ نے صدیق یا شہید فرمایا ہے؟ (انہوں نے کہا:) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمن بن عوف ہیں ؓ ، پوچھا گیا: دسویں شخص کون ہیں؟ تو سعید نے کہا: وہ میں ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔۲۔ یہ حدیث کئی سندوں سے سعید بن زید ؓ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے آئی ہے۔