قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْحُدُودِ (بَابُ مَنْ سَرَقَ مِنَ الْحِرْزِ)

حکم : صحیح (الألباني)

2595. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ نَامَ فِي الْمَسْجِدِ وَتَوَسَّدَ رِدَاءَهُ فَأُخِذَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ فَجَاءَ بِسَارِقِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطَعَ فَقَالَ صَفْوَانُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أُرِدْ هَذَا رِدَائِي عَلَيْهِ صَدَقَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: شرعی سزاؤں سے متعلق احکام ومسائل

تمہید کتاب (باب: محفوظ جگہ سے چوری کرنا)

مترجم: ١. فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

2595.

حضرت عبداللہ بن صفوان رحمہ اللہ اپنے والد (حضرت صفوان بن امیہ ؓ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ مسجد میں سو رہے تھے اور اپنی چادر سر کے نیچے رکھی ہوئی تھی۔ کسی نے ان کے سر کے نیچے سے چادر نکال لی۔ وہ چور کو پکڑ کر نبی ﷺ کی خدمت میں لے گئے۔ نبی ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ صفوان ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! میرا ارادہ یہ نہیں تھا (کہ اس کا ہاتھ کٹوا دوں) میری چادر اس پر صدقہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نے اسے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں (یہ صدقہ) نہ کیا؟