قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابٌ فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ)

حکم : ضعیف

ترجمة الباب:

182 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ كَانَ رَبُّنَا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ خَلْقَهُ؟، قَالَ: «كَانَ فِي عَمَاءٍ، مَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ، وَمَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ، وَمَا ثَمَّ خَلْقٌ، عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت 

  (

باب: فرقہ جہمیہ نے جس چیز کا انکار کیا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

182.   حضرت ابو رزین ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے ہمارا رب کہاں تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’وہ بادل میں تھا، اس (بادل) کے نیچے بھی ہوا نہ تھی، اور اس کے اوپر بھی ہوا نہ تھی، اور نہ وہاں کوئی اور مخلوق تھی۔ اس کا عرش پانی پر تھا۔‘‘