قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ التِّجَارَاتِ (بَابُ مَا لَا يَحِلُّ بَيْعُهُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2167.   حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ: «إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالْأَصْنَامِ» ، فَقِيلَ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ؟ فَإِنَّهُ يُدْهَنُ بِهَا السُّفُنُ، وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ، قَالَ: «لَا، هُنَّ حَرَامٌ» ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ فَأَجْمَلُوهُ، ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جن چیزوں کی فروخت منع ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

2167.   حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال مکہ میں فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول ﷺ نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی فروخت حرام کر دی ہے۔ اس وقت آپ ﷺ سے عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسولﷺ! مردہ (جانوروں) کی چربی کے بارے میں فرمائیے، اس سے کشتیوں کو چکنا کیا جاتا ہے، چمڑوں کو لگایا جاتا ہے (اور اس طرح انہیں قابل استعمال بنایا جاتا ہے۔) اور لوگ (اسے چراغوں میں جلا کر) اس سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: نہیں، یہ سب چیزیں حرام ہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں کو تباہ کرے! اللہ نے ان پر چربی حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچ ڈالا، اور اس کی قیمت کھا گئے۔