قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ التِّجَارَاتِ (بَابُ بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا تَمْرًا)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

2269 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا قَالَ يَحْيَى الْعَرِيَّةُ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ ثَمَرَ النَّخَلَاتِ بِطَعَامِ أَهْلِهِ رُطَبًا بِخَرْصِهَا [تَمْرًا]

سنن ابن ماجہ:

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: عریہ کو اس کے اندازے کے مطابق خشک کھجور کے عوض فروخت کرنا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2269.   حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے حضرت زید بن ثابت ؓ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے عریہ کو اس کے اندازے کے برابر خشک کھجور کے عوض فروخت کرنے کی اجازت دی۔ حضرت یحییٰ بن سعید رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: عرایا کا یہ مطلب ہے کہ آدمی کھجور کے چند درختوں کا تازہ پھل اندازے سے اپنے گھر کی خشک کھجوروں کے عوض خرید لے۔