قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَحْكَامِ (بَابُ الرَّجُلَانِ يَدَّعِيَانِ السِّلْعَةَ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

2329 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ خِلَاسٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا دَابَّةً وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَأَمَرَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: فیصلہ کرنے سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: جب دو آدمی کسی چیز ( کی ملکیت ) کے دعوے دار ہوں اور ان میں سے کسی کے پاس گواہی نہ ہو

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2329.   حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے ایک جانور کے بارے میں دعویٰ کیا، اور ان کے درمیان (فیصلہ کرنے والی) کوئی گواہی موجود نہ تھی تو نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ قسم کھانے کے لیے قرعہ اندازی کر لیں۔ (پھر جس کا قرعہ نکلے وہ قسم کھا لے۔)