قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَحْكَامِ (بَابُ الْقَضَاءِ بِالْقُرْعَةِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

2346 .   حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ خِلَاسٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلَيْنِ تَدَارَءَا فِي بَيْعٍ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ أَحَبَّا ذَلِكَ أَمْ كَرِهَا

سنن ابن ماجہ:

کتاب: فیصلہ کرنے سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: قرعہ اندازی کے ذریعے سے فیصلہ کرنا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2346.   حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک سودے میں دو آدمیوں کا جھگڑا ہو گیا۔ ان میں سے کسی کے پاس ثبوت نہیں تھا (گواہی وغیرہ یا کوئی اور قرینہ) تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ قرعہ ڈال کر قسم کھا لیں، خواہ انہیں (قسم کھانا) پسند ہو یا ناپسند ہو۔