قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الصَّدَقَاتِ (بَابُ الْقَرْضِ)

حکم : ضعیف إلا المرفوع منه فحسن

ترجمة الباب:

2430 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسِيرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ رُومِيٍّ قَالَ كَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ أُذُنَانٍ يُقْرِضُ عَلْقَمَةَ أَلْفَ دِرْهَمٍ إِلَى عَطَائِهِ فَلَمَّا خَرَجَ عَطَاؤُهُ تَقَاضَاهَا مِنْهُ وَاشْتَدَّ عَلَيْهِ فَقَضَاهُ فَكَأَنَّ عَلْقَمَةَ غَضِبَ فَمَكَثَ أَشْهُرًا ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ أَقْرِضْنِي أَلْفَ دِرْهَمٍ إِلَى عَطَائِي قَالَ نَعَمْ وَكَرَامَةً يَا أُمَّ عُتْبَةَ هَلُمِّي تِلْكَ الْخَرِيطَةَ الْمَخْتُومَةَ الَّتِي عِنْدَكِ فَجَاءَتْ بِهَا فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنَّهَا لَدَرَاهِمُكَ الَّتِي قَضَيْتَنِي مَا حَرَّكْتُ مِنْهَا دِرْهَمًا وَاحِدًا قَالَ فَلِلَّهِ أَبُوكَ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ بِي قَالَ مَا سَمِعْتُ مِنْكَ قَالَ مَا سَمِعْتَ مِنِّي قَالَ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُقْرِضُ مُسْلِمًا قَرْضًا مَرَّتَيْنِ إِلَّا كَانَ كَصَدَقَتِهَا مَرَّةً قَالَ كَذَلِكَ أَنْبَأَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: صدقہ وخیرات سے متعلق احکام ومسائل 

  (

باب: قرض دینا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2430.   حضرت قیس بن رومی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت سلیمان بن اذنان رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت علقمہ رحمۃ اللہ علیہ کو ان کا وظیفہ (تنخواہ) ملنے تک کی مدت کے لیے ایک ہزار درہم قرض دیا۔ جب انہیں وظیفہ ملا تو انہوں (سلیمان) نے ان سے سختی سے (قرض کی واپسی کا) تقاضا کیا۔ حضرت علقمہ نے ادائیگی کر دی لیکن انہیں ناراضی محسوس ہوئی (کہ اتنی سختی سے تقاضا کیا ہے) چند ماہ ٹھہر کر وہ (پھر) ان کے پاس آئے اور کہا: مجھے تنخواہ ملنے تک ایک ہزار درہم قرض دے دیں۔ انہوں نے کہا: ہاں، (میں بڑی خوشی سے آپ کا) احترام کرتے ہوئے (آپ کو قرض دیتا ہوں، پھر اپنی بیوی سے کہا): اے ام عتبہ! تمہارے پاس جو مہر بند تھیلی ہے، وہ لے آؤ۔ وہ لے آئیں تو (علقمہ سے) کہا: قسم ہے اللہ کی! یہ آپ کے وہی درہم ہیں جو آپ نے مجھے ادا کیے تھے۔ میں نے ان میں سے ایک درہم بھی ادھر ادھر نہیں کیا۔ علقمہ ؓنے کہا: کیا خوب! آپ نے مجھ سے جو سلوک کیا، اس کی کیا وجہ؟ انہوں نے کہا: (اس کی وجہ وہ حدیث تھی) جو میں نے آپ سے سنی۔ انہوں نے کہا: آپ نے مجھ سے کون سی حدیث سنی؟ سلیمان نے کہا: میں نے آپ(علقمہ) کو حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کرتے سنا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو مسلمان دوسرے مسلمان کو دوبارہ قرض دیتا ہے، وہ ایک بار اتنا صدقہ کرنے کے برابر ہو جاتا ہے۔ علقمہ ؓ نے فرمایا: مجھے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے (واقعی) اسی طرح حدیث سنائی تھی۔