موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الرُّهُونِ (بَابُ الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ)
حکم : ضعیف
2474 . حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مَرْزُوقٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جَدْعَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ الْمَاءُ وَالْمِلْحُ وَالنَّارُ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْمَاءُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا بَالُ الْمِلْحِ وَالنَّارِ قَالَ يَا حُمَيْرَاءُ مَنْ أَعْطَى نَارًا فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا أَنْضَجَتْ تِلْكَ النَّارُ وَمَنْ أَعْطَى مِلْحًا فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا طَيَّبَ ذَلِكَ الْمِلْحُ وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ يُوجَدُ الْمَاءُ فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَ رَقَبَةً وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ لَا يُوجَدُ الْمَاءُ فَكَأَنَّمَا أَحْيَاهَا
سنن ابن ماجہ:
کتاب: رہن ( گروی رکھی ہوئی چیز) سے متعلق احکام ومسائل
باب: تین چیزوں میں تمام مسلمان شریک ہیں
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2474. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! کون سی چیز کو روک رکھنا حلال نہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانی، نمک اور آگ کو۔ ام المومنین ؓ فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: یہ پانی جو ہے اس (کی اہمیت) کو ہم نے جان لیا۔ نمک اور آگ کا کیا معاملہ ہے؟ آپ نے فرمایا: اے حمیراء جس نے (کسی کو) آگ دی، اس نے گویا وہ سارا کھانا صدقہ کیا جو اس آگ پر تیار ہوا۔ اور جس نے نمک دیا، اس نے گویا وہ سب کچھ صدقہ کر دیا جو اس نمک سے درست ہوا۔ اور جس نے کسی مسلمان کو اس جگہ پانی کا گھونٹ پلایا جہاں پانی پایا جاتا ہے تو اس نے گویا ایک غلام آزاد کیا۔ اور جس نے مسلمان کو وہاں پانی کا گھونٹ پلایا جہاں پانی نہیں پایا جاتا تو اس نے اسے زندہ کر دیا۔