قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَدَبِ (بَابُ الِاسْتِئْذَانِ)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

3707.   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ وَاصِلِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي سَوْرَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا السَّلَامُ فَمَا الِاسْتِئْذَانُ قَالَ يَتَكَلَّمُ الرَّجُلُ تَسْبِيحَةً وَتَكْبِيرَةً وَتَحْمِيدَةً وَيَتَنَحْنَحُ وَيُؤْذِنُ أَهْلَ الْبَيْتِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: اخلاق وآداب سے متعلق احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: اجازت طلب کرنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

3707.   حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! یہ سلام (تو ہمیں معلوم ) ہے لیکن اجازت طلب کرنے کا کیا مطلب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: آدمی کوئی بات کہے، سبحان اللہ کہہ دے، اللہ اکبر کہہ دے ،الحمد للہ کہہ دے یا کھانس دے۔ (مقصد یہ ہے کہ) گھر والوں کو معلوم کرا دے (کہ میں اندر آنا چاہتا ہوں ۔)