قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفِتَنِ (بَابُ الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

4008.   حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحْقِرْ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يَحْقِرُ أَحَدُنَا نَفْسَهُ؟ قَالَ: يَرَى أَمْرًا لِلَّهِ عَلَيْهِ فِيهِ مَقَالٌ، ثُمَّ لَا يَقُولُ فِيهِ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَقُولَ فِي كَذَا وَكَذَا؟ فَيَقُولُ: خَشْيَةُ النَّاسِ، فَيَقُولُ: فَإِيَّايَ كُنْتَ أَحَقَّ أَنْ تَخْشَى

سنن ابن ماجہ:

کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: نیکی کا حکم دینا اور برائی سےروکنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

4008.   حضرت ابو سعید ؓ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: کوئی شخص اپنے آپ کو ذلیل نہ کرے۔ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسولﷺ! کوئی شخص اپنے آپ کو کس طرح ذلیل کرتا ہے؟ آ پ نے فرمایا: وہ ایسا کام ہوتا دیکھتا ہے جس کے بارے میں اللہ کی طرف سے اس پر بولنا ضروری ہے، پھر وہ اس کے بارے میں بات نہیں کرتا، (اور غلط کام سے منع نہیں کرتا) اسے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تجھے فلاں مسئلے میں بات کرنے سے کیا رکاوٹ تھی؟ وہ کہے گا: لوگوں کاخوف تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تیرا زیادہ حق مجھ ہی ڈرنے کا تھا۔