قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزُّهْدِ (بَابُ الْحَسَدِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4209.   حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: حسد کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

4209.   حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روا یت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ حسد (رشک) صر ف دو کامو ں میں جائز ہے۔ ایک اس آ دمی سے (رشک کرنا چاہیے) جسے اللہ نے قرآ ن (کا علم) دیا۔ وہ رات کے اوقات میں بھی اس پر قا ئم رہتا ہے۔ اور دن کے اوقات میں بھی اور (دوسرا) وہ آ دمی جس کو اللہ نے مال دیا وہ را ت کے اوقات میں بھی اسے (نیکی کے کاموں میں) خرچ کرتا ہے اور دن کے اوقات میں بھی (اس پر رشک کرنا چاہیے)۔