قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابٌ فِيمَا تَجْتَنِبُهُ الْمُعْتَدَّةُ فِي عِدَّتِهَا)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2302.   حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ح، وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ الْقُهِسْتَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ السَّهْمِيَّ، عَنْ هِشَامٍ وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْجَرَّاحِ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: >لَا تُحِدُّ الْمَرْأَةُ فَوْقَ ثَلَاثٍ, إِلَّا عَلَى زَوْجٍ, فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا، إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَلَا تَكْتَحِلُ، وَلَا تَمَسُّ طِيبًا، إِلَّا أَدْنَى طُهْرَتِهَا، إِذَا طَهُرَتْ مِنْ مَحِيضِهَا, بِنُبْذَةٍ مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ. قَالَ يَعْقُوبُ مَكَانَ عَصْبٍ إِلَّا مَغْسُولًا. وَزَادَ يَعْقُوبُ وَلَا تَخْتَضِبُ.

سنن ابو داؤد:

کتاب: طلاق کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: عدت والی اپنے ایام عدت میں کن امور سے اجتناب کرے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

2302.   سیدہ ام عطیہ‬ ؓ س‬ے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عورت کسی (میت) پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ کرے، سوائے شوہر کے۔ اس کے لیے چار ماہ دس دن سوگ کرے، کوئی رنگین کپڑا نہ پہنے مگر وہ کپڑا جس کی بنائی ہی رنگین دھاگوں سے ہو (یمنی دھاری دار چادر وغیرہ) نہ سرمہ لگائے نہ خوشبو استعمال کرے مگر حیض سے طہارت کے وقت معمولی قسط یا اظفار کی خوشبو استعمال کر سکتی ہے۔“ یعقوب نے «عصب» کی بجائے «مغسولا» کا لفظ استعمال کیا اور «ولا تختضب» کا اضافہ بھی کیا (مہندی نہ لگائے)