قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابٌ فِي الشَّهِيدِ يُغَسَّلُ)

حکم : حسن

ترجمۃ الباب:

3136.   حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ يَعْنِي الْمَرْوَانِيَّ عَنْ أُسَامَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْمَعْنَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى حَمْزَةَ وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ فِي نَفْسِهَا لَتَرَكْتُهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الْعَافِيَةُ حَتَّى يُحْشَرَ مِنْ بُطُونِهَا وَقَلَّتْ الثِّيَابُ وَكَثُرَتْ الْقَتْلَى فَكَانَ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَةُ يُكَفَّنُونَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ زَادَ قُتَيْبَةُ ثُمَّ يُدْفَنُونَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ أَيُّهُمْ أَكْثَرُ قُرْآنًا فَيُقَدِّمُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ

سنن ابو داؤد:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: شہید کو غسل دینے کا مسئلہ ؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

3136.   سیدنا انس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سیدنا حمزہ ؓ کے پاس سے گزرے جب کہ ان کا مثلہ کیا گیا تھا۔ (ان کی نعش سے ناک اور کان وغیرہ کاٹ لیے گئے تھے) تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر یہ بات نہ ہو کہ (ان کی بہن) صفیہ ؓ سے برداشت نہیں ہو سکے گا تو میں اسے (سیدنا حمزہ کی نعش کو) ایسے ہی چھوڑ دوں حتیٰ کہ اسے درندے اور پرندے کھا جائیں اور پھر یہ ان کے پیٹوں ہی سے محشر میں آئیں۔“ اور (احد میں) کپڑے کم پڑ گئے اور مقتولین کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی تو ایک ایک دو دو اور تین تین کو ایک ہی کپڑے میں کفن دیا گیا۔ قتیبہ نے مزید کہا: اور ایک ایک قبر میں دفن کیے گئے۔ رسول اللہ ﷺ ان کے متعلق دریافت فرماتے جاتے تھے کہ ان میں سے قرآن کس کو زیادہ یاد ہے؟ پھر اسے قبلہ کی جانب آگے کر دیتے تھے۔