قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْأَدَبِ (بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ التَّمَادُحِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4805.   حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا أَثْنَى عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: >قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ<، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: >إِذَا مَدَحَ أَحَدُكُمْ صَاحِبَهُ لَا مَحَالَةَ, فَلْيَقُلْ: إِنِّي أَحْسِبُهُ- كَمَا يُرِيدُ أَنْ يَقُولَ-، وَلَا أُزَكِّيهِ عَلَى اللَّهِ<.

سنن ابو داؤد:

کتاب: آداب و اخلاق کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: ایک دوسرے کی مدح سرائی کی کراہت کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

4805.   جناب عبدالرحمٰن بن ابوبکرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں دوسرے کی تعریف کی تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی۔“ آپ ﷺ نے یہ تین بار فرمایا۔ پھر فرمایا: ”اگر کوئی اپنے کسی ساتھی کی مدح کرنا ہی چاہتا ہو تو چاہیئے کہ یوں کہے: ”میں اسے یوں سمجھتا ہوں کہ وہ ایسے ایسے ہے اور اللہ کے علم کے مقابلے میں، میں اس کی صفائی نہیں دیتا۔“