قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْحُدُودِ (بَابُ مَنْ لَا يَجِبُ عَلَيْهِ الْحَدُّ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2541.   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ يَقُولُ عُرِضْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَكَانَ مَنْ أَنْبَتَ قُتِلَ وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ خُلِّيَ سَبِيلُهُ فَكُنْتُ فِيمَنْ لَمْ يُنْبِتْ فَخُلِّيَ سَبِيلِي

سنن ابن ماجہ:

کتاب: شرعی سزاؤں سے متعلق احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: کس پر حد لگانا واجب نہیں ؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

2541.   حضرت عطیہ قرظی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: بنو قریظہ (کی سزا) کے دن ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیے گئے تو جس کے (زیر ناف) بال اگ آئے تھے اسے قتل کر دیا گیا اور جس کے بال نہیں اگ تھے، اسے چھوڑ دیا گیا۔ میں ان افراد میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے تو مجھے بھی چھوڑ دیا گیا۔