قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ مَنْ قَدَّمَ نُسُكًا قَبْلَ نُسُكٍ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

3050 .   حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ يَوْمَ مِنًى فَيَقُولُ: «لَا حَرَجَ، لَا حَرَجَ» فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، قَالَ: «لَا حَرَجَ» قَالَ: رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ قَالَ: «لَا حَرَجَ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: (دس ذی الحجہ کو)حج کے اعمال میں تقدیم وتاخیر

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3050.   حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہےکہ منیٰ کے دن رسول اللہ ﷺسے سوالات کیے جاتے تھے تو آپ فرماتے تھے: ’’کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں۔‘‘ ایک شخص نے آ کر کہا: میں نےذبح کرنے سے پہلے ہی سر منڈوا لیا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’کوئی حرج نہیں۔‘‘ کسی نے عرض کیا: میں نے شام ہونے پر رمی کی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’کوئی حرج نہیں۔‘‘