موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الطِّبِّ (بَابُ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً)
حکم : صحیح
3436 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: شَهِدْتُ الْأَعْرَابَ يَسْأَلُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ أَعَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ فَقَالَ لَهُمْ: «عِبَادَ اللَّهِ، وَضَعَ اللَّهُ الْحَرَجَ، إِلَّا مَنِ اقْتَرَضَ، مِنْ عِرْضِ أَخِيهِ شَيْئًا، فَذَاكَ الَّذِي حَرِجَ» فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ: هَلْ عَلَيْنَا جُنَاحٌ أَنْ لَا نَتَدَاوَى؟ قَالَ: «تَدَاوَوْا عِبَادَ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ، سُبْحَانَهُ، لَمْ يَضَعْ دَاءً، إِلَّا وَضَعَ مَعَهُ شِفَاءً، إِلَّا الْهَرَمَ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْعَبْدُ قَالَ: «خُلُقٌ حَسَنٌ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: طب سے متعلق احکام ومسائل
باب: اللہ نے ہر بیماری کی شفا (حاصل کرنے کی دوا) نازل کی ہے
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
3436. حضرت اسامہ بن شریک ( ثعلبی )ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں (مجلس میں) موجود تھا جب اعرابی نبی ﷺ سے سوالات کررہے تھے: کیا فلا ں کام کرنے میں ہم پر گناہ ہے ؟ کیا فلاں کام کرنے میں ہم پر گناہ ہے؟ تو آپﷺ نے ان سے فرمایا: ’’اللہ کے بندو! اللہ نے حرج (تنگی ) کودور کردیا ہے مگر جس نے اپنے بھائی کی عزت میں سے ایک حصہ کاٹ لیا، یہی ہے جس نے گناہ کیا۔‘‘ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہمیں اس بات سے گناہ ہوگا کہ ہم (بیماری سے شفا کے لیے) دوا (استعمال ) نہ کریں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کے بندو! (شفا کے لیے) دوا (استعمال ) کیا کرو، اللہ سبحانہ وتعالی نے جو بیماری بنائی ہے، اس کی شفا ( کے لیے دوا) بھی بنائی ہے، سوئے شدید بڑھاپے کے‘‘ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! بندے کو سب سے بہتر چیز کیا عطا ہوئی ہے ؟ فرمایا: ’’اچھا اخلاق۔‘‘